Click here

header ads

کپتان کا مقابلہ کون کرے گا۔۔ کیا عمران خان بھٹو سے زیادہ مقبول لیڈر بن چکے ہیں؟

پاکستان میں سیاسی درجہ حرارت اس وقت انتہائی عروج پر ہے اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پورے سیاسی منظر نامے پر حاوی دکھائی دیتے ہیں۔ 2018 میں پہلی بار حکومت بنانے والے عمران خان تقریباً 4 سال حکومت میں رہے تاہم ان کی کارکردگی مایوس کن رہی لیکن رواں سال اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے تحریک عدم اعتماد نے عمران خان کی ناکامیوں کا ذمہ اپنے سر لے کر انہیں مزید مقبول بنا دیا ہے۔
حکومت میں سیاسی ناکامیاں
عمران خان کو 2018 میں وفاق اور پنجاب میں حکومت بنانے کے باوجود پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں شکست ہوئی، خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں تحریک انصاف جن اضلاع میں مضبوط سمجھی جاتی تھی وہاں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا، کراچی کے ضمنی الیکشن میں بھی پی ٹی آئی کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا لیکن اقتدار ختم ہونے کے بعد پنجاب کے حالیہ ضمنی انتخابات میں ان کی جماعت نے 20 میں سے 15 نشستیں حاصل کیں۔
 
مقبولیت میں اضافہ
عمران خان کے دور حکومت میں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ شائد پی ٹی آئی اب دوبارہ کبھی اقتدار حاصل نہیں کرسکے گی اور لوگ پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے میں بھی ہچکچاہٹ کا شکار نظر آتے تھے لیکن تحریک عدم اعتماد کے بعد عمران خان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا اور اس وقت ان کی پارٹی کی پوزیشن 2018 سے زیادہ مضبوط دکھائی دیتی ہے اور سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کی مقبولیت میں 4 گنا اضافہ ہوا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ شائد وہ ذوالفقار علی بھٹو سے بھی زیادہ مقبولیت حاصل کرچکے ہیں